![]() |
| How To Avoid Colds And Infections In Winter |
ہم چھوٹے چھوٹے صحت سے متعلق مشورے آپ کو
دیتے رہتے ہیں کہ صحت کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ میرے ایک بہت ہی نامور وکیل
دوست ہیں اور وہ سیاستدان بھی ہیں، میری ان سے ملاقات ہوئی تو وہ بھی پوچھ رہے تھے
کہ کیا بلڈ پریشر کو بھی ٹھیک کیا جا سکتا ہے، اس کو بھی ریورس کیا جا سکتا ہے؟تو
سادہ سا پیغام ہے کہ دنیا کی ہر بیماری کو ریورس کیا جا سکتا ہے، ٹھیک کیا جا سکتا
ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود یہ کہا ہوا ہے کہ میں نے دنیا میں کوئی
ایسی مشکل، کوئی ایسی بیماری نہیں بھیجی جس کا کوئی علاج، جس کا کوئی تدارک موجود نہ ہو۔
بلکہ ہوتا یہ ہے کہ کسی جگہ پر اگر بیماری
پیدا ہوتی ہے تو اس سے کہیں پہلے اس کا علاج موجود ہوتا ہے۔ مثلاً اب آپ دل کو
دیکھ لیجیے کہ یہ جو Open
Heart سرجری
ہوتی ہے اور بائی پاس کیا جاتا ہے، بائی پاس کیا ہوتا ہے کہ ایک نس نکال کر اس
کو جو دل کا چیمبر ہے اس کو بائی پاس کر
کے، اوپر سے گزار کر دوسرے چیمبر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ تو اب سوال یہ ہے کہ وہ جو
نس ہے یا وہ جو Vein ہے وہ کہاں سے لی جاتی ہے؟ وہ Vein اس طرح ہے کہ جو آپ کی پنڈلی ہے اس میں سے نکالی جاتی ہے اور پوری
پنڈلی میں قدرت نے ایک Vein اضافی رکھی ہوئی ہے اور جس کا
کوئی فنکشن نہیں ہوتا۔ یہ بہت بعد میں دریافت (Discover)
ہو اکہ ہماری جو پنڈلی ہے اس کے اندر ایک
اضافی رگ (Vein) ہے جس کو اگر کاٹ لیا جائے تو
ہمارے جسم میں کوئی مسئلہ نہیں آتا۔
اس کو وہ کاٹ کر اس سے جو دل ہے اس کو بائی پاس کیا جاتا ہے۔ تو یہ
دیکھیں کہ انسان کو دل کے دورے بعد میں پڑنا شروع ہوئے، یہ جو Cardiac مسائل ہیں وہ بہت لیٹ آئے۔ لیکن آج سے ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں سال
پہلے اللہ تعالیٰ نے ہماری پنڈلیوں میں ایک اضافی Vein
رکھ دی تھی جو بعد میں اس کام آ سکتی تھی۔ اس بات سے آپ اندازہ لگا لیں۔
اسی طرح بہت ساری جڑی بوٹیاں ہیں کہ جب پتا
یہ چلتا ہے کہ جڑی بوٹی ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں سالوں سے چل رہی تھی، لیکن پھر ایک
مرض پیدا ہوا اور یہ پتا چلا کہ اس مرض کا علاج تو اس کے پاس ہے۔ مثلاً جیسے Disprin ہے، گرو آپ کو اس کے بارے میں آگے بتائے گا کہ جو Disprin تھی وہ کہاں سے نکلی تھی، وہ بڑی
دلچسپ ہے۔ ایک پودا ہے اور پودے کی جو جڑ ہے اس میں سے جب اس کا ست بنا کر
پیا گیا تو Disprin بن گئی اور اس کے بعد اس کو
مارکیٹ کر لیا گیا۔ اسی طرح ہر جو دوائی ہے اس کا کوئی نا کوئی بیک گراؤنڈ ہے اور
وہ بیک گراؤنڈ آپ کو یہیں کہیں چلتی پھرتی نظر آتی ہے کیونکہ قدرت نے پہلے سے ہی
فیصلہ کیا ہوا ہے کہ انسان کو جب یہ مسئلہ ہو گا تو اس کے اپنے ماحول (Environment) میں اس مسئلے کا حل مل جائے گا۔
آپ نے جانوروں کو دیکھا ہوگا مثلاً آپ نے
کوئی کتا یا بلی پالی ہوئی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ جب وہ بیمار ہوتے ہیں تو آپ ان کو
کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ کھلا چھوڑتے ہیں تو
وہ Lawn میں یا جہاں جہاں سرسبز ایریا (Green Area) ہوتا ہے وہ وہاں پر جاتے ہیں۔ اب کتا ظاہر ہے سبزی خور تو ہے
نہیں، وہ پودا تو نہیں کھا سکتا۔ لیکن بیماری کی حالت میں وہ ہمیشہ کسی پودے کو
منہ مارے گا، وہ باقاعدہ اس میں ڈھونڈ کر کوئی ایک بوٹی نکالے گا اور اس کو کھا
جائے گا، اس کو وہ چوس لے گا یا اسے چبا لے گا۔ اس طرح بلی جو ہے وہ بھی ظاہر ہے
کہ سبزی خور نہیں ہے لیکن وہ جائے گی، ماحول میں سے کوئی نا کوئی چیز نکالے گی، اس
کو کھینچے گی۔ اس کو نکال کر اس کو وہ کھا جائے گی اور اس کے بعد وہ صحت مند ہو
جائے گی۔
یعنی جو کتے اور بلیاں ہیں ان کو بھی پتا ہے
کہ یہ جو باہر سرسبز ایریا ہے اس میں کہیں
نا کہیں ایسی چیزیں ہیں کہ جو ہمارےامراض کا علاج کر سکتی ہیں۔ ہم تو انسان ہیں
اور اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑے پیار سے، بڑی محبت سے بنایا
ہے۔ تو وہ ہمیں بیماریوں کے رحم و کرم پر
کیسے چھوڑ سکتا ہے۔ تو اس نے ہر چیز کا علاج رکھا ہوا ہے۔ لہذا یاد رکھیں کہ ہر
مرض خواہ وہ کتنا ہی خوفناک کیوں نا ہوں اس کا علاج موجود ہے۔ بس آپ نے اس کو تلاش
کرنا ہے اور تلاش کیسے کرنا ہے؟ قدرتی ڈائیٹ استعمال کرنی ہے یاد رکھیں۔ کیونکہ
دنیا میں جو پہلی دوائی تھی وہ خوراک تھی۔ انسان نے جب خوراک کھائی تو اس کے بعد
وہ صحت مند ہونا شروع ہو گیا تھا۔ تو آپ کے ہر مسئلے کا علاج قدرتی خوراک میں ہے
اور جب آپ قدرتی خوراک سے دور ہوتے ہیں تو پھر آپ کے اندر بہت سارے مسئلے پیدا
ہوتے ہیں۔
اب کیونکہ سردیوں کا موسم آگیا ہے تو گرو آپ
کو بتائے گا کہ سردیوں کے موسم میں کیا کیا کرنا چاہیے جس سے جو عام قسم کے امراض
ہیں جس میں جوڑوں کا درد ہوتا ہے، جس میں کھانسی ہے، جس کے اندر نزلہ و زکام ہے،
جس میں بخار ہے، جس کے اندر سر درد ہے، جس کے اندر یہ سستی ہے۔ بہت سارے لوگ سردی
کے موسم میں سست ہو جاتے ہیں تو اس سے کیسے نکلا جا سکتا ہے؟ پھر گرم خوراکیں کون
کون سی ہیں جو آپ کو کھانی چاہییں؟ تو گرو آپ کو اس بارے میں بتائیں گے اور میرا
خیال ہے اگر آپ اپنے کچن کے اندر تھوڑی سی
تبدیلیاں کر دیں تو بہت سارے امراض سے آپ جان چھڑا سکتے ہیں۔
گرو:
سب سے پہلے جس چیز کے اوپر ہمیں سردیوں
کے موسم میں توجہ (Concentrate)
کرنا ہے وہ یہ ہے کہ آپ دیکھیں کہ ابھی نومبر کا مہینہ شروع ہوا ہے تو انفیکشن بہت
بڑھ جائیں گے گلے کے، چیسٹ کے، بلغم پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے بچوں سے لے کر بڑوں
تک۔ جلد کے مسائل شروع ہو جائیں گے، جلد پر خشکی (Dryness)
آ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جو الرجی اور اس طرح کے معاملات ہیں وہ شروع ہو جاتے
ہیں۔ جو چھینکیں ہیں وہ بعض اوقات اتنی شدت سے آتی ہیں کہ پسلیوں میں درد شروع ہو
جاتا ہے۔ فارما کمپنیوں کا تو یہ سیزن شروع ہو گا، اینٹی بائیوٹکس بازار میں ملیں
گی ہی نہیں۔ اینٹی الرجی اور اینٹی بائیوٹکس جو ہیں وہ ملتی ہی نہیں ہیں اور وہ
باقاعدہ اس کو پلان کرتے ہیں کہ یہ سیزن آ رہا ہے تو ہم نے پروڈکشن بڑھانی ہے۔
جبکہ ہم چھوٹے چھوٹے کوئی کام کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ناصرف آپ ان بیماریوں سے
محفوظ رہ سکیں گے بلکہ آپ اس موسم کو انجوائے بھی کر سکیں گے۔ بحرحال سردی کا موسم
جو ہوتا ہے اس میں آپ کپڑے اپنی مرضی کے پہن سکتے ہیں، اچھے کپڑے پہن سکتے ہیں اور
موسم کی اس طرح کی شدت نہیں ہوتی تو آپ سفر کرنا چاہیں اور آپ ویسے اپنے شہروں خاص
طور پر میدانی علاقوں میں نکلا چاہیں تو آپ بڑا انجوائے کر سکتے ہیں۔
پانی:
تو
سب سے پہلا مسئلہ جو آپ کو آئے گا اور وہ الرجی کے مسائل آئیں گے یا جلد کے مسائل
آئیں گے یا انفیکشن ہوں گے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم پانی پینا کم کر دیتے ہیں۔
پانی آپ کا جسم جو ہے وہ 80 فیصد پانی ہے، آپ کی ہڈیوں کے اندر 30 فیصد پانی ہے۔
30 فیصد پانی ہے ہماری ہڈیوں میں، ہمارے دماغ میں 70 سے 80 فیصد پانی ہے، پٹھے (Muscles) سارے پانی ہیں۔ پانی آپ کے جسم کی بنیادی ضرورت ہے۔ میں نے آپ کو
کئی دفعہ بتایا ہے کہ ہر 10 کلو وزن پر ایک گلاس پانی، 250ml
کا ایک گلاس پانی آپ کی ضرورت ہے۔ 80 کلو وزن ہے تو 8 گلاس پانی، چاہے جیسا بھی
ہے۔ اس سے بڑھ سکتا ہے، پسینہ آ رہا ہے، گرمی کا موسم ہے تو بڑھ جائے گا۔ اس سے کم
کریں گے تو نقصان ہو گا۔ تو پہلا کام ہم یہ کرتے ہیں کہ سردی آئی تو ہم پانی پینا
کم کر دیتے ہیں۔
بھئی! سردی تو آ گئی ہے لیکن آپ کے جسم میں
بائیوکیمیکل پروسیس تو وہی ہے۔ آپ کے
گردوں نے فلٹریشن کا کام کرنا ہے، آپ کے پیشاب کے پروسیس نے اسی طرح رہنا ہے، آپ
نے واش روم جانا ہے۔ جو سارا نظام انہضام ہے اس میں سارا پانی کا کام ہے اور خون
کا پورا نظام ہے وہ سارا پانی ہے۔ تو پانی جو ہے اس کو جب آپ کم کریں گے تو بہت
سارے مسئلے مسائل آپ میں شروع ہوں گے۔
ہمارا ناک، منہ اور ہماری یہ آنکھیں، یہاں پر اینٹی مائیکروبیل
پیپٹائڈز ہوتے ہیں جو کسی بھی بیماری پھیلانے والے جراثیم کو آپ کے جسم میں داخل
ہونے سے روکتے ہیں۔ یہ لعاب ہے آپ کا اور ناک کے اندر بھی رطوبت ہے تو اس میں بھی
پانی ہے۔ جب آپ پانی کم کرتے ہیں تو یہاں خشکی آ جائے گی، منہ میں خشکی آئے گی،
ناک میں خشکی آئے گی۔ تو باہر سے جو بھی جراثیم ہیں، بیکٹیریا ہے، وائرس ہے وہ آپ
کے جسم کے اندر داخل ہو جائے گا۔ تو پہلا تو آپ نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا۔
پانی پئیں تاکہ یہ جو نمی ہے یہ برقرار رہے۔
وٹامن D:
دوسرا جو جلد کے اوپر خشکی (Dryness) آتی ہے اس کی بھی وجہ یہی ہے کہ آپ پانی کم پیتے ہیں۔ تیسرا مسئلہ
یہ ہے کہ اب سردیوں کے اندر ہمیں وٹامن Dکی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
تو جیسے ہی اکتوبر کا مہینہ شروع ہو اور ادھر سے مارچ کا مہینہ شروع ہو تو آپ اپنا
وٹامن D کا لیول ضرور چیک کروائیں۔ وٹامن D
کا لیول عام طور پر جو شہری (Urban) آبادی ہے چونکہ ہم دھوپ میں نہیں
بیٹھتے، باہر نہیں نکلتے، ہماری طرز زندگی (Lifestyle)
تبدیل ہو گئی ہے تو وٹامن D کی کمی Overall
پوری دنیا میں ہے۔ خوراک کے اندر بھی وہ اتنا نہیں پایا جاتا۔
کیونکہ دودھ ہم پیتے تھے تو اس میں وٹامن D ہوتا تھا،ا نڈے کھاتے ہیں تو اس میں وٹامن D
ہوتا ہے۔ اب وہ جانور تو فارم میں پل بڑھ (Raise)
رہے ہیں نا، وہ خود دھوپ میں نہیں نکلتے تو ان کی چیزوں میں وٹامن D نہیں۔ تو آپ وٹامن D کا سپلیمنٹ لینا پڑے گا۔ وٹامن D کا ٹیسٹ کروائیں اور اس کا لیول جو ہے 60 سے 70 نینو گرام کے
درمیان اس کو سیٹ کریں آپ بہت ساری بیماریوں سے بچ جائیں گے۔ یہ ملیریا کیا ہو
گیا، یہاں تک کہ کرونا کے اندر بھی ان لوگوں کو زیادہ Casualties ہوئی ہیں جن کا وٹامن D کا لیول
کم تھا۔ تو ایک تو وٹامن D کا Intake،
وہ آپ کو سپلیمنٹ کے ذریعے لینا چاہیے۔ پانی زیادہ پینا ہے،وٹامن D لینا ہے۔
وٹامن C:
تیسری چیز جو سردیوں کے موسم میں تندرست
رکھے گی، اس موسم کو انجوائے کروائے گی اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس موسم میں اس کا سارا سامان رکھا ہوا ہے اور وہ ہے "وٹامن C"۔ وٹامن C آپ کو
سب سے زیادہ امرود کے اندر ملتا ہے۔ امرود جو ہے وہ روزانہ اور اللہ کے فضل سے آپ
کو سردیوں میں سارا سیزن آپ کو مارچ، اپریل تک امرود ملے گا۔ روزانہ ایک چھوٹا
دانہ جو 100 گرام کا ہے وہ امرود کا اگر آپ کھا لیں گے تو آپ کا وٹامن C کا لیول پورا ہو جاتا ہے، بلکہ زیادہ ہو جائے گا۔ اس سے بھی آپ کو
انفیکشن نہیں ہوں گے۔ وٹامن C آپ کی قوت مدافعت کو بڑھا دیتا
ہے۔
پھر کینو ہے، مالٹے ہیں۔ یہ سارے سٹریس فروٹ
بھی آپ کی سردیوں میں آتے ہیں اور یہ بھی
وٹامن C کے بہترین ذرائع ہیں۔
یہاں پر میں ایک بہت چھوٹا سا ٹوٹکہ سمجھ لیں یا علاج سمجھ لیں یہ اگر آپ پوری
سردیوں میں کریں گے بچے بھی اور بڑے بھی، اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں ہے، یہ
قدرتی ہے۔ تو آپ کو بالکل انفیکشن نہیں ہوگا، کسی قسم کا انفیکشن ، الرجی نہیں ہو
گی۔
ٹوٹکہ:
ایک کینو لیجیے یا ابھی مسمی شروع ہونے والی
ہے۔ اس کو آپ کپ کے اندر نچوڑ لیں۔ ایک کپ کے اندر ایک کینو یا مسمی نچوڑ لیں اور
اس کے اندر تھوڑا سا پنک ہمالین سالٹ اور تھوڑی سی پسی ہوئی کالی مرچ کی ایک چٹکی
اور اس کے اندر تقریباً آپ کا آدھا کپ جوس ہوگا۔ تو آدھا کپ گرم، تیز گرم پانی جو
ہم چائے کے لیے بناتے ہیں وہ اس میں ڈال دیں۔ یہ ایک طرح کا قہوہ بن جائے گا، ایک
طرح کی چائے (Tea) بن جائے گی۔ تو آپ دوپہر میں، عصر
کے وقت اس کو پیتے رہیں۔ روزانہ ایک کپ پئیں، تو آپ کا وٹامن C بھی اور چونکہ کالی مرچ کے اندر بھی بہت ساری چیزیں ہیں تو یہ آپ
کی قوت مدافعت کو بوسٹ کر دیں گے۔ آپ کو پورا سیزن کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔
یخنی:
پھر جو اس کے علاوہ آپ کو چیزیں چاہییں،
منرلز چاہییں، جسم کو تھوڑی انرجی چاہیے تو اس کے لیے سب سے اچھی چیز یخنی
ہے۔ یخنی کو آپ گرمیوں میں بھی استعمال
کریں لیکن سردیوں میں تو 2 کپ یخنی ضرور پئیں بجائے اس کے کہ آپ کالی پتی کی چائے
پئیں جو ہمارے گھروں میں، ہماری ثقافت (Culture) میں عام ہو گئی ہے۔ آپ یخنی کے
استعمال پر آجائیں، ایک کپ صبح لیجیے، ایک کپ شام کو لیجیے اور ہڈیوں کی یخنی
بنائیے۔ یہ سستا ترین مشروب ہے۔ 2-3 کلو ہڈیاں لے آئیں بیف کی اور اس کا جب
آپ بنائیں گے تو یہ پورا ہفتہ چل جاتا ہے،
فریج میں رکھیں خراب نہیں ہوتا۔
مالش:
تو وٹامن C،
وٹامن D، منرلز اور ایک جو چیز جس کا آپ نے خاص اہتمام کرنا ہے چونکہ خشکی
آتی ہے، نمی (Moisture) کم ہو جاتا ہے موسم میں تو اپنے
جسم کی مالش بھی ضرور کریں۔ اس کے لیے جو بہترین تیل ہے وہ ناریل کا تیل ہے۔ ناریل
کا تیل ایسے ہے کہ فوری طور پر جلد میں جذب ہو جاتا ہے۔ باقی جتنے تیل ہیں، ان کو
جب بھی آپ جسم پر لگائیں گے تو چپچپا پن آپ کو لگے گا، کپڑے خراب ہوں گے۔ لیکن یہ
فوری طور پر جلد کے اندر چلا جاتا ہے۔
رات کو سوتے وقت 3-4 ڈراپ ہلکے نیم گرم
ناریل کے، قابل برداشت ہو اسے اپنی ناف میں ضرور ڈالیں۔ اس سے ناف کا جو ہمارا
سسٹم ہے، چونکہ بچے کا آپ دیکھیں کہ وہ سارا جو نظام ہے وہ ناف کے ذریعے سے جڑا
ہوا ہوتا ہے۔ تو ناف ایک ایسی جگہ ہے جو آپ کے سر سے لے کر پاؤں تک یہ آپ کے نرووز
(Nerves) کو، آپ کے مسلز کو یہاں سے جوڑتا
ہے۔ اس سسٹم کو ایکٹیو رکھنے کے لیے اور اس پر بڑے بے شمار ریسرچز آ رہی ہیں کہ
بہت ساری بیماریوں کا اس سے علاج ہو رہا ہے۔ تو ناریل کا تیل ناف میں ڈالیں۔
ایک اور مسئلہ بھی آئے، خاص طور پر شوگر کے
مریضوں کو۔ انہیں کھلیاں (Cramps) پڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سردیوں
میں یہاں پنڈلیوں میں درد پڑنے لگتے ہیں، پنجابی میں کہتے ہیں "کڑل" پڑ
جاتے ہیں یکدم، چلتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے ، سوتے ہوئے مسئلہ ہوتا ہے، گردن میں بل
پڑ جاتا ہے۔ تو اس کے لیے کچھ منرلز کی کمی ہوتی ہے، گرمیوں میں چونکہ درجہ حرارت
کا مسئلہ نہیں ہوتا تو ہم چل جاتے ہیں۔ سردیوں میں درجہ حرارت بھی آ جاتا ہے، درجہ
حرارت کم ہوتا ہے اس لیے چیزیں سکڑتی ہیں، پھیلنے والے جو منرلز چاہیے ہوتے ہیں وہ
نہیں ملتے۔
تو میں آپ کو ایک اور بہترین چیز بتاتا ہوں
کہ ناریل کا تیل اس میں بھی بڑا مددگار ہے، ایک تو آپ نے مالش کی، دوسرا آپ ناریل
کا تیل جو ہے اس کو رات کو سوتے وقت ایک کپ دودھ کے اندر، ایک کپ دودھ لیں نیم گرم
اور اس میں ایک چمچ ناریل کا تیل اور ایک چمچ سفید تل۔ تل اب مارکیٹ کے اندر آ چکے
ہیں، آپ تل لے سکتے ہیں۔ وہ آپ اس میں ڈال لیں، اس کو موٹا موٹا پیس لیں اور اس کو
سوتے وقت آپ پی لیں۔ آپ کے جسم میں ایک ہفتے کے بعد ہی آپ محسوس کریں گے کہ آپ کا
جو نروس سسٹم (Nervous
System) ہے، جو
اعصابی نظام ہے وہ بہتر ہو جاتا ہے۔ یہ پٹھوں (Muscles)
کے اندر جو Cramping
ہو رہی ہے وہ ٹھیک ہو جاتی ہے، آپ کی نیند ٹھیک ہو جائے گی، سٹریس لیول ڈاؤن ہو
جائے گا۔
کیونکہ سردیوں میں ڈپریشن بڑھ جاتا ہے۔
پچھلے لیکچر میں ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ جب ڈپریشن بڑھتا ہے اور اس سے خودکشی کے
خیالات (Suicidal
Thoughts) بڑھتی
ہیں۔ خودکشی کی طرف رحجان (Tendency) پوری دنیا کے اندر، صرف پاکستان
نہیں بلکہ جاپان کے اندر سب سے زیادہ
خوکشی ہوتی ہے تو سردیوں میں، ناروے (Norway) میں، Scandinavian ملک میں۔
اس کی وجہ کیا ہے؟
سورج نہیں نکلتا، روشنی کم ہوتی ہے اور
پاکستان کے اندر بھی خاص طور پر پنجاب میں سموگ کی وجہ سے، دھندھ کی وجہ سے روشنی
کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔ ابھی پنجاب کی گورنمنٹ نے 4 دنوں کے لیے 5 اضلاع میں
پرائیویٹ ادارے، سرکاری ادارے، سکول، شاپنگ مال سب کچھ بند کر دیا ہے۔ یہاں تک کہ
پارک بھی بند کر دئیے ہیں تاکہ لوگ گھروں میں بیٹھیں اور یہ جو سموگ کا معاملہ ہے
اس سے بچے رہیں۔
تو اگر آپ یہ چیزیں کرتے رہیں گے تو آپ سموگ
سے بھی بچیں گے، سردیوں کے انفیکشن سے بھی بچے رہیں گے اور بڑے صحت مند انداز سے،
بڑے ہی خوبصورت طریقے سے سردیوں کے موسم کو انجوائے کر سکیں گے۔
یہ وہ چند نسخے تھے جو ہم نے آپ کو دے دئیے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ گرم قہوہ بھی پی سکتے ہیں اور قہوہ جو ہے اس کی ترکیب (Recipe) آپ گرو سے لے سکتے ہیں۔ قہوے سے بھی بڑا فرق پڑے گا۔ اس کے علاوہ ہم صبح کے وقت ایک گلاس گرم پانی ہوتا ہے اس کے اندر ایک چٹکی ایک چھوٹی سی چیز کی ڈالتے ہیں اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے پھر ہمیں کسی بھی قسم کی الرجی نہیں ہوتی۔

